فتنوں سے بھرے ہوئے اس دور میں جہاں دیگر معاصی و منکرات عروج پر ہیں یوں ہی قرآن کریم یاد کر کے بھلانے کا گناہ بھی عام ہے ، احادیث مبارکہ میں اس کی مذمت بھی وارد ہوئی ہے، اس عاجز و حقیر نے متعدد جگہ یہ مسئلہ بھی بیان کیا اور وعید کی ایک آدھ روایت بھی سنائی، تاہم بعد میں مرقات وغیرہ شروح حدیث میں قرآن بھولنے کا جدا مفہوم سامنے آیا ، اس مفہوم کے دیکھنے کے بعد وعید سنانے سے رک گیا؛ تاہم اس مفہوم کے حوالے سے دل میں طویل عرصہ تک کھٹکا رہا، اس کے لیے فکر و مطالعہ کا عمل جاری رہا، ان چند صفحات میں اس پر کچھ ضابطے کی گفتگو کرنی مقصود ہے۔
مذمت پر مشتمل حدیث
سنن ابی داؤد میں ہے:
عن أنس بن مالك، قال: قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم -: "عرضت علي أجور أمتى حَتَّى القَذااةُ يُخْرِجُها الرجل من المسجد، وعُرِضَت على ذُنوبُ أُمَّتى فلم أر ذنباً أعظم من سورة من القرآن أو آية أُوتِيها رجلٌ ثمَّ نَسِيَها (1)
ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے آپ ﷺ کا ارشاد گرامی منقول ہے کہ مجھے امت کا اجر و ثواب دکھایا گیا، یہاں تک کہ اس نیکی کا ثواب بھی دکھایا گیا کہ کوئی مسجد سے کوئی خس و خاشاک باہر نکالے ۔ اس کے ساتھ ساتھ مجھے امت کے گناہ بھی دکھائے گئے تو ان میں سب سے
بڑا گناہ قرآن کریم کی کوئی سورت یا آیت حفظ کر کے بھلانا پایا ۔
یہ روایت سنن ابی داؤد کے علاوہ سنن ترمذی وغیرہ کتب سنن میں بھی ہے۔ اب ایک تو اس روایت کی اسنادی حیثیت ہے جس پر مختلف محدثین کرام نے کلام فرمایا ہے، حافظ عبد العظیم منذری نے الترغیب والترہیب میں اور علامہ ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ نے الزواجر ، میں اس پہلو سے تفصیلی طور پر تعرض فرمایا ہے ، اہل ذوق اس کی طرف مراجعت فرما سکتے ہیں۔ (۲)
اس میں اتنی بات مزید کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اگر چہ اکثر محدثین کرام کا رجحان اسی جانب ہے کہ یہ روایت اسنادی لحاظ سے کمزور ہے؛ تاہم قرآن کریم بھولنے کی وعید و مذمت اسی ایک حدیث ہی میں نہیں ہے؛ بلکہ یہ دیگر روایات میں بھی بیان فرمایا گیا ہے اور اس کے گناہ ہونے پر مستند اہل علم کا تقریباً اتفاق ہے، اگر چہ کبیرہ ہونے نہ ہونے میں آراء مختلف ہیں جس کی تفصیل حضرت علامہ بیہقی رحمہ اللہ نے زواجر میں بیان فرمائی ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی اس کی کچھ ضروری تفصیل ذکر فرمائی ہے۔(۳)
اہل علم کا اس کو گناہ شمار کر نا مذمت کی ان روایات کو قبول کرنے کے مترادف ہے۔
حدیث کا مفہوم
اس حدیث کے (متعلقہ حصے ک)ا متبادر مفہوم یہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ پر امت کے گناہ پیش کیے گئے ، ان گناہوں میں سے آپ ﷺ نے اس سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں دیکھا کہ کسی شخص کو خدا تعالی کے فضل و کرم سے مکمل قرآن کریم یا اس کے کسی حصے کے یاد کرنے کی سعادت نصیب ہوئی اور پھر وہ اس کو بھول جائے ، یہ ایسا گناہ ہے جو امت کے بڑے بڑے گناہوں میں بھی سر فہرست ہے۔
اس حدیث کے سمجھنے میں دو قسم کی غلط فہمیاں پیش آتی ہیں:
الف۔ پہلی غلط فہمی عوامی نوعیت کی ہے جس میں عام لوگ مبتلا ہوتے ہیں، وہ یہ ہے کہ اس مذمت کو وہ مکمل قرآن کریم کے ساتھ خاص سمجھتے ہیں، ان کا خیال ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص مکمل قرآن کریم یاد کر کے اس کو بھول جاتا ہے تو یہ مذموم اور گناہ ہے، لیکن اگر مکمل قرآن کریم حفظ نہ کرے، چند سورتوں یا پاروں ہی کو یاد کرلے تو ان کو بھلانا مذموم یا گناہ نہیں ہے۔ اس کے غلط ہونے کی وجہ یہ ہے کہ درج بالا روایت میں سورت اور آیت کا خاص طور پر ذکر ہے اور مذمت اسی کی کی گئی ہے، پورے قرآن کریم کو یاد کر کے بھلانے کی اس میں کوئی قید مذکور نہیں ہے۔
فلم أر ذنباً أعظم من سورة من القرآن أو آية أوتيها رجل ثم نسيها. ترجمہ: "میں نے ان میں سب سے بڑا گناہ قرآن کریم کی کوئی سورت یا آیت حفظ کر کے
بھلانا دیکھا۔
ب۔ دوسری غلط فہمی “نسیان” کے معنی میں پیش آجاتی ہے، یہاں اس کو قدر تفصیل کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے۔
ان روایات میں قرآن کریم کے نسیان پر وعید وارد ہوئی ہے، نسیان کا معنی بھولنا
بھولنے کا مفہوم یہی ہوتا ہے کہ ایک چیز پہلے سے یاد ہو پھر ذہن سے غائب ہو جائے ، جانی پہنچانی چیز ، کے ذہن سے نکلنے کو اردو میں بھولنا اور عربی میں نسیان سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
تعریفات میں ہے: النسيان: هو الغفلة عن معلوم في غير حالة السنة (۳)
ترجمہ: اونگھ کے علاوہ ( بیداری کی حالت ) میں معلوم چیز سے غفلت کو نسیان (بھولنا) کہا جاتا ہے۔
دستور العلماء میں ہے:
النسيان: زوال صورة المعلوم عن النفس بحيث لا تتمكن من ملاحظتها إلا بتحشم إدراك جديد (٥)
ترجمہ: ” دل سے معلوم چیز کی صورت اس طور پر نکلے کہ دوبارہ معلوم کرنے کی کلفت برداشت کیے بغیر یاد نہ رہے، اسے نسیان ( بھول ) کہا جاتا ہے۔
اس کے پیش نظر درج بالا روایت کا مفہوم یہ ہوا کہ جو شخص قرآن کریم کی کسی سورت یا آیت کو ایک بار یاد کرے اور پھر اس کو بھول جائے تو وہ بہت بڑے گناہ کا مرتکب اور گناہ گار و مجرم ہے۔
نسیان کی ایک دوسری تشریح
ہمارے بعض علماء حنفیہ نے یہاں نسیان کا معنی یہ بیان فرمایا ہے کہ کوئی شخص قرآن دیکھ کر بھی نہ پڑھے سکے، جس کو ہمارے ہاں ناظرہ پڑھنا کہا جاتا ہے، ان حضرات کی تفسیر کے مطابق اگر کوئی شخص ایک سورت و آیت یا پورا قرآن کریم حفظ کرلے اور پھر اس حد تک بھول جائے کہ قرآن دیکھے بغیر یاد کے ساتھ اس کی تلاوت نہ کر سکے ، صرف ناظرہ دیکھ کر پڑھ سکتا ہو تو وہ اس مذمت کا مصداق نہیں ہوگا۔
اس تشریح کے مصادر
نسیان کی یہ تشریح علم فقہ اور شروح حدیث کی متعدد کتابوں میں ذکر کی گئی ہے ، ” فتاویٰ ہندیہ ، تتارخانيۃ، بريقہ محموديہ ، مرقاة المفاتح اور بذل المجهود وغیرہ کتابوں میں اس کا یہی مفہوم ذکر کیا گیا ہے نمونہ کے طور پر یہاں دو عبارتیں درج کی جاتی ہیں :
فتاوی ہندیہ میں ہے: إِذَا حَفِظَ الإنسان القرآن ثم نَسِيَهُ فَإنَّه يَأْتُم، وتفسير النسيان أن لا يُمْكِنَهُ القراءة مِنَ المُصْحَف (1)
ترجمہ: ” اگر کوئی شخص قرآن مجید یاد کرنے کے بعد بھلائے تو وہ گنہگار ہوگا۔ بھلانے کا معنی یہ ہے کہ وہ قرآن مجید دیکھ کر بھی نہ پڑھ سکے۔
فتاوی تار تار خانیہ میں ہے:
وفي اليتيمة: إذا حفظ الإنسان القرآن ثم نسيه فإنه يَأْتُم، وروى فيه عن أنس بن مالك عن النبي صلى الله عليه وسلّم… قال يوسف بن محمد: وتفسير النسيان أن لا يُمكنه القراءة من المصحف (4)
ترجمہ: اگر کوئی قرآن حفظ کرنے کے بعد بھلائے تو وہ گنہگار ہوگا ، اس بارے میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی وساطت سے آپ ﷺ کا یہ ارشاد گرامی نقل ہے کہ ۔۔۔ علامہ یوسف بن محمد فرماتے ہیں کہ بھلانے کا معنی یہ ہے کہ وہ قرآن دیکھ کر بھی پڑھ نہ سکے۔ اس تشریح کو ذکر کرنے والے بزرگ شیخ یوسف بن محمد سے کون مراد ہیں؟ اور اس کا فقہی
مقام و مرتبہ کیا ہے؟ اس کے متعلق "طبقات حنفیہ کی ورق گردانی کرنے سے واضح ہوا کہ اس نام سے فقہائے احناف میں متعدد علماء وفقہار گزرے ہیں، علامہ عبد الحی لکھنوی رحمہ اللہ ” الفوائد البهيۃ میں اس نام کے جن علماء وفقہاء کا ذکر کیا ہے ، ان میں سے بیشتر وہ ہیں جو یا تو صاحب تتارخانیہ سے متاثر ہیں یا اگر معاصر ہیں تو عمر میں بہت چھوٹے ہیں؛ اس لیے ان کا قول ”فتاویٰ“ میں ذکر کرنا مستبعد ہے؛ تاہم جواہر مضیہ میں اس نام کے متعدد ایسے علماء وفقہائے کرام بھی ہیں جو صاحب فتاوی اور تاتارخانیہ سے کافی متقدم ہیں اور ان کے اقوال سے استفادہ کرنا کچھ مستبعد نہیں ہے، اگر چہ اس
نام کے متعین مصداق کے بارے میں کوئی قوی قرینہ سامنے نہیں آیا۔
اس دوسری تشریح کا اصولی تجزیہ
اصولی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہی واضح ہوتا ہے کہ ان احادیث مبارکہ میں نسیان اپنے عام متبادر معنی میں ہے اور اس کا مصداق یہی ہے کہ قرآن کریم کل یا اسکا کچھ حصہ یاد کر کے آدمی بھول جائے ، یہ دوسری تشریح درست معلوم نہیں ہوتی ، جس کی وجوہات درج ذیل ہیں:
۱۔ کلمہ و کلام میں اصل یہی ہے کہ حقیقت پر محمول ہو، کسی اصولی بنیاد کے بغیر نصوص کے الفاظ کو اپنے حقیقی متبادر معانی سے پھیر کر دوسرے معنی پر حمل کرنا جائز نہیں۔
۲۔ یہ حدیث وعید کے لیے ہے اور دوسری تشریح کی صورت میں وعید کچھ زیادہ معنی خیز نہیں رہتی؛ چنانچہ ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے کہ کوئی شخص تحریر پڑھنا جانتا ہو اور پھر وہ اس حد تک بھول جائے کہ دیکھ کر تحریر نہ پڑھ سکے۔ ہم نے پوری زندگی میں اس کی ایک مثال بھی نہیں دیکھی۔
۳۔ یہ روایت تمام مسلمانوں کے لیے ہے اور سبھی کی طرف حکم متوجہ ہوتا ہے، لیکن درج تشریح کو اختیار کیا جائے تو امی لوگ ، جو تحریر پڑھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ، اس سے نکل جائیں گے؟ کیونکہ وہ زبانی طور پر ہی حفظ کرتے ہیں، مصحف دیکھ کر پڑھنا تو یوں ہی ان کی استطاعت میں نہیں ہوتا ۔ اسی طرح نابینا لوگ بھی اس حدیث کے تحت داخل نہیں ہوں گے۔
کیا یہ حنفیہ کا مسلک ہے؟
بعض کتابوں میں اس توجیہ کو فقہائے حنفیہ کی جانب منسوب فرمایا گیا ہے، مثال کے طور پر بذل المجہود میں ہے:
عن سعد بن عبادة قال: قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم -: مَا مِنْ إِمْرَءٍ يقرأ القرآن ثم ينساه أي بالنظر عندنا، وبالغيب عند الشافعي، أو المعنى ثم يترك قراءته نسى أو ما نسى (۸)
ترجمہ: حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے آپ صلی ﷺ کا ارشاد گرامی نقل ہے کہ جو کوئی قرآن پڑھتا ہے پھر اسے بھلائے یعنی ہمارے حنفیہ کے نزدیک وہ دیکھ کر نہ پڑھ سکے، یا حضرات شافعیہ کے نزدیک یاد نہ رہے یا حدیث کا معنی یہ ہے کہ قرآن مجید پڑھ کر اس کی تلاوت ترک کرے خواہ وہ یادر ہے یا نہ رہے ( تو وہ قیامت کے دن جذامی بن کر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوگا ۔)
اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ شاید فقہائے حنفیہ کا یہی موقف ہے، ان جیسی عبارات کی بنیاد پر بہت سے مقلدین احناف بھی حدیث کی یہی تشریح اختیار کر لیتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ حنفیہ کی جانب اس موقف کی نسبت کرنا درست نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حنفیت کا معیار یہ ہے کہ کوئی مسئلہ ائمہ حنفیہ اور مشائخ مذہب سے با اعتماد طریقے سے منقول ہو اور اصول افتاء کے مطابق وہ مذہب کا راجح قول بھی ہو۔ اس تناظر میں زیر بحث تشریح کو دیکھا جائے تو اس کو حنفیہ کا موقف ٹھہرانا بالکل درست معلوم نہیں ہوتا۔
یہی وجہ ہے کہ بہت سے حنفیہ نے بھی اس کے خلاف تشریح ذکر فرمائی ہے؛ چنانچہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اللہ جیسے متصلب حنفی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
وفي هذا زجر وتشديد، فإن نسيان القرآن ليس أعظم الذنوب، وإن عده بعض العلماء من الكبائر، كما نقله مولانا جلال الدواني عن الروياني في شرح العقائد العضدية لكن بعضهم أولوا بنسيانه بحيث لا يقدر على قراءته من المصحف، والظاهر من الحديث نسيانها بمعنى عدم الحفظ عن ظهر القلب، وعليه حمله الشارحون (9)
ترجمہ : اس حدیث مبارکہ میں بہت زجر و توبیخ ہے قرآن کریم کا بھلانا گناہ کبیرہ نہیں اگر چہ بعض علماء کرام اسے کبیرہ گناہوں میں سے شمار کرتے ہیں، جیسا کہ علامہ دوائی نے شرح عقائد عضدیہ میں رویانی سے نقل کیا ہے، مگر بعض حضرات نے اس کا مطلب یہ بیان فرمایا ہے کہ بھلانے سے مراد یہ ہے کہ وہ دیکھ کر بھی پڑھنے پر قادر نہ ہو، مگر حدیث کے ظاہری الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ بھلانے سے مراد د یکھے بغیر یاد نہ رہنا ہے شارحین نے اس کا یہی معنی مراد لیا ہے۔
مشہور حنفی عالم علامہ ابن الملک کرمانی رحمہ اللہ اس کی شرح میں لکھتے ہیں:
ثم نسيها؛ يعني: يكون ذنبه أعظم من سائر الذنوب الصغائر؛ لأن نسيان القرآن من الحفظ ليس بذنب كبير إن لم يكن عن استخفاف وقلة تعظيم، وإنما قال – عليه الصلاة والسلام – بهذا للتشديد والتحريض على مراعاة حفظ القرآن (١٠)
ترجمہ: صغیرہ گناہوں میں سے قرآن یاد کر کے بھلانا بڑا گناہ ہے؛ کیونکہ قرآن مجید کا بھلانا اگر لا پرواہی اور بے توقیری کی وجہ سے نہ ہو تو گناہ کبیرہ نہیں ۔ باقی آپ ﷺ نے جو وعید ذکر فرمائی ہے وہ (اہمیت کی وجہ سے) اس معاملہ میں سختی اور قرآن یا د رکھنے کی ترغیب کے طور پر فرمائی ہے۔
نسیان کی تیسری تشریح اور اس کا تجزیہ
بعض اہل علم سے یہاں نسیان کی ایک اور تشریح بھی منقول ہے ، وہ یہ ہے کہ یہاں نسیان سے بھلا نا مراد نہیں ہے؛ بلکہ قرآن کریم یا اس کے یاد کردہ آیت / سورت پر عمل نہ کرنا مراد ہے ، حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں :
وقد كان بن عُبَيْنَةَ يَذْهَبُ فِي أَنَّ النَّسْيَانَ الَّذِي يَسْتَحِقُ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ اللَّوْمَ وَيُضَافُ إِلَيْهِ فِيهِ الْإِثْمُ هُوَ التَّرْكُ لِلْعَمَلِ بِهِ، وَمَعْلُومٌ أَنَّ النَّسْيَانَ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ التَّرْكُ، قَالَ الله عز وجل (فلما نسوا ما ذكروا به )أَي تَرَكُوا … وَلَيْسَ مَنِ اشْتَهَى حِفْظُهُ وَتَفَلَّتَ مِنْهُ بِنَاسٍ لَهُ إِذَا كَانَ يُحَلِّلُ حَلَالَهُ وَيُحَرِّمُ حَرَامَهُ، قَالَ وَلَوْ كَانَ كَذَلِكَ مَا نَسِيِّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْهُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسَى (!) (11)
ترجمہ: امام ابن عیینہ کی رائے یہ ہے کہ جس بھلانے پر بندہ قابل ملامت بنتا ہے اور گنہگار ہوتا ہے اس سے مراد قرآن پر عمل نہ کرنا ہے؛ کیونکہ کلام عرب میں نسیان کامادہ چھوڑنے کے معنی میں بھی مستعمل ہوتا ہے۔ باری تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر جب وہ اس نصیحت کو بھول گئے جو ان کو کی گئی تھی، یعنی اسے ترک کیا۔ اس وعید سے مراد وہ شخص نہیں جو قرآن یاد کرنے کی خواہش رکھتا ہو اس کے حلال و حرام کی رعایت بھی رکھے پھر اس سے بھول جائے، تو وہ بھلانے والا شمار نہیں ہوگا، ورنہ آپ ﷺ سے قرآن کی کوئی آیت مبارکہ یاد سے نہ رہ جاتی ۔ باری تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے: البتہ ہم آپ کو پڑھائیں گے پھر آپ نہ بھولیں گئے۔
یه تو درست ہے کہ قرآن کریم کے احکام و تعلیمات پر عمل نہ کر نا مذموم ہے، جس حد تک بے عملی ہوگی ، اس حد تک مذمت بھی کم یا زیادہ ہوگی ؛ تاہم درج بالا حدیث میں نسیان کو خاص اس معنی پر حمل کرنا اصولی نقطۂ نظر سے درست معلوم نہیں ہوتا ، اس میں وہی اشکالات ہیں جو درج بالا سطور میں
دوسری تشریح کے اصولی تجزیے میں ذکر کیے گئے ہیں۔ قاضی شوکانی مرحوم بجا لکھتے ہیں:
وَقِيلَ الْمُرَادُ بِقَوْلِهِ : نَسِيَهَا تَرَكَ الْعَمَلَ بِهَا. وَمِنْهُ قَوْلِهِ تَعَالَى : (نَسُوا اللَّهَ فَنَسِيَهُمْ) وَهُوَ مَجَازَ لَا يُصَارُ إِلَيْهِ إِلَّا لِمُوجِبٍ (۱۳)
ترجمہ : بعض حضرات نے قرآن بھلانے سے اس پر عمل نہ کرنا مراد لیا ہے، جیسا کہ باری تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے کہ ” وہ اللہ کو بھول گئے سو اللہ نے انہیں بھلا دیا مگر یہ نسیان کا مجازی معنی ہے اور بغیر کسی ضرورت کے اسے مراد لینا درست نہیں ( جب کہ یہاں کوئی ضرورت نہیں )۔
کوتاہی کے بغیر قرآن بھول جائے تو حکم
جن اہل علم نے مذکورہ احادیث میں ”نسیان“ کو بھولنے کے بجائے دوسرے معانی پر حمل کیا ہے، ان میں سے بیش تر حضرات کے سامنے اس کی ایک وجہ یہ رہی ہے اور متعدد حضرات نے اس کی صراحت بھی فرمائی ہے کہ بسا اوقات انسان تلاوت کرتا رہتا ہے، لیکن حافظہ کی کمزوری، بیماری یا دیگر مصائب و آفات کی وجہ سے وہ بھول جاتا ہے ، نسیان کو بھولنے کے معنی میں لینے کی صورت میں یہ شخص بھی اس وعید کے تحت داخل ہوگا جب کہ بظاہر اس کا کوئی قصور معلوم نہیں ہوتا اور شرعی ضوابط سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص گناہ گار و مجرم نہ ہو (۱۳)
لیکن اس بات کو بنیاد اور اس کی بنیاد پر نسیان کے حقیقی معنی کو چھوڑ کر دوسرے معانی پر حمل کرنا درست نہیں ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ گناہ ہو یا ثواب دونوں کا تعلق انسان کے اختیاری اعمال کے ساتھ ہوتا ہے، ان جیسے مصائب و تکالیف کی وجہ سے اگر کوئی شخص قرآن کریم بھول جاتا ہے باوجودیکہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق مناسب وقفہ سے تلاوت کرتا رہتا ہے، تو ظاہر ہے کہ وہ معذور شمار ہوگا ، لیکن اس کی معذوری کی وجہ یہ نہیں ہوگی کہ یہاں نسیان کا معنی دوسرا ہے؛ بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نسیان اس شخص کی کسی کوتاہی اور غفلت سے پیدا نہیں ہو؛ بلکہ ایک گونا غیر اختیاری ہے
سنن ابی داؤد کے مشہور شارح علامہ شہاب الدین احمد بن رسلان رملی شافعی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:
قال: وليس هو بذنب؛ لأن الذنب ما يكتسبه الإنسان ويفعله اختيارا دون ما ( يفعل به و) يحمل عليه اضطرارا؛ لقوله صلى الله عليه وآله وسلم: "لا يقولن أحدكم نسيت آية كذا، وإنما هو نسى. وكفى بنسيان كلام الله تعالى عقوبة، ومن نسى كلام الله تعالى نسى الله، ومن نسى الله تعالى خسر الدارين، فأما من نسى القرآن لعلة تلحقه (عن آفة) من كبر أو مرض أو سوء مزاج وهو مع ذلك مقبل على تلاوة ما يقدر عليه فإنه إن شاء الله غير آثم (۱۳)
ترجمہ: اپنے اختیار کسی ممنوع کام کا ارتکاب کرنا گناہ ہے، مجبوری یا غیر اختیاری طور پر کسی کام کا صادر ہونا گناہ نہیں؛ کیونکہ آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ہرگز کوئی یہ نہ کہے کہ میں فلاں آیت کو بھول چکا ہوں ؛ بلکہ وہ مجھ سے بھول گئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے کلام کو بھلا نا بڑا گناہ ہے؛ کیونکہ جو اللہ تعالیٰ کا کلام بھلاتا ہے اسے اللہ بھلاتا ہے اور جسے اللہ بھلائے وہ دونوں جہانوں میں برباد ہوا ، البتہ اگر کوئی اپنی استطاعت کی حد تک تلاوت کرنے کے باوجود بیماری، بڑھاپے، یا مزاج کی خرابی کی وجہ سے قرآن بھول جائے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے یہی امید ہے کہ وہ گناہ گار نہ ہوگا۔
علامہ ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
(بَابُ الأَحْدَاثِ الْكَبِيرَةُ الثَّامِنَةُ وَالسَّتُونَ نِسْيَانُ الْقُرْآنِ) قَالَ الْحَلَالُ الْبُلْقِينِي وَالزَّرْكَشِيُّ وَغَيْرُهُمَا: مَحَلَّ كُونَ نِسْيَانِهِ كَبِيرَةٌ عِنْدَ مَنْ قَالَ بِهِ إِذَا كَانَ عَنْ تَكَاسُلٍ وَتَهَاوُنِ انْتَهَى، وَكَأَنَّهُ احْتَرَزَ بِذَلِكَ عَمَّا لَوْ اشْتَغَلَ عَنْهُ بِنَحْوِ إِغْمَاءٍ أَوْ مَرَضِ مَانِعَ لَهُ مِنْ الْقِرَاءَةِ وَغَيْرِهِمَا مِنْ كُلِّ مَا لَا يَتَأَتَى مَعَهُ الْقِرَاءَةُ، وَعَدَمُ التَّاثِيمِ بِالنَّسْيَانِ حِينَئِذٍ وَاضِحٌ لِأَنَّهُ مَغْلُوبٌ عَلَيْهِ لَا اخْتِيَارَ لَهُ فِيهِ بِوَجُهِ بِخِلَافٍ مَا إِذَا اشْتَغَلَ عَنْهُ بِمَا يُمْكِنُهُ الْقِرَاءَةُ مَعَهُ، وَإِنْ كَانَ مَا اشْتَغَلَ بِهِ أَهَمَّ وَآكَدَ (۱۵)
ترجمہ: علامہ جلال الدین دوانی اور علامہ زرکشی وغیرہ حضرات فرماتے ہیں کہ جو لوگ قرآن بھلانے کو گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں ان کا مطلب یہ ہے کہ وہ مستی یا کاہلی کی وجہ سے قرآن بھول جائے ۔ بظاہر اس سے وہ بے ہوشی، یا تلاوت سے روکنے والی بیماری وغیرہ امور کو نکالنا مراد ہے؛ کیونکہ اس صورت میں گنہ گارنہ ہونا واضح ہے؛ کیونکہ وہ مجبور اور بے اختیار ہے؛ البتہ اگر کوئی تلاوت کی استطاعت باوجود اس سے اعراض کرے اگر چہ وہ کام بھی اہم اور ضروری ہو پھر بھی وہ گنہ گار ہوگا۔
والله تعالى اعلم بالصواب
حواشی
(۱) سنن ابی داود، كتاب الصلوة، باب في كنس المسجد، ج 1، ص 346.
(۲) الترغيب والترهيب للمنذرى، كتاب العلم، الترهيب من كتم العلم، ج 1، ص 122.
الزواجر عن اقتراف الكبائر ، باب الأحداث الكبيرة الثامنة والستون نِسْيانُ الْقُرْآنِ، ج 1، ص 199.
(۳) فتح الباري لابن حجر، باب نسيان القرآن، ج 9، ص 86.
ولا يصح الاستدلال بهذه الآية على أن من حفظ القرآن ثم نسيه يحشر يوم القيامة أعمى لأن هذا اختلف فيه
العلماء (فذهب) مالك إلى أن حفظ الزائد عما تصح به الصلاة من القرآن مستحب أكيدا ابتداء ودواما فنسيانه مكروه (وذهب) الشافعي إلى أن نسيان كل حرف منه كبيرة تكفر بالتوبة والرجوع إلى حفظه (وظاهر) مذهب الحنابلة أن نسيانه من الكبائر (وقالت الحنفية نسيانه كله أو بعضه ولو آية كبيرة.
وقد صنف الثواني رسالة في تعداد الكبائر، وعد فيها نسيان القرآن منها . قلت : وأخذت من الفتاوى البزارية أنه كان
يقرأ القرآن من المصحف، ولم يكن حافظا، ثم نسيه، فهو أيضا كبيرة.
(4) التعريفات، باب النون، ص 241
(5) دستور العلماء، باب النون مع الصاد المهملة، ج 3، ص 278
(٦) الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب الرابع في الصلاة والتسبيح، ج 5، ص 315
) الفتاوى التتارخانية، كتاب الصلاة، مسائل زلة القارى، رقم المسألة 1910، ج 2 ص 120.
(۸) بذل المجهود، كتاب الصلوة، باب: انزل القُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، ج 6، ص 190.
(۹) لمعات التنقيح، كتاب الصلوة، باب المساجد، الفصل الثاني ، ج 2، ص 475.
(۱۰) شرح المصابيح ، كتاب الصلوة، باب المساجد ومواضع الصلاة، ج 1، ص 434.
(11) الاستذكار، كتاب القرآن، باب ما جاء في القرآن، ج 2، ص 488.
(۱۱) یہاں نسیان کی جو تشریح حضرت سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ سے نقل کی گئی ہے، علامہ ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ نے علامہ ابوشامہ مقدسی رحمہ اللہ
سے بھی یہ تو جید نقل فرمائی ہے جو امام نووی رحمہ اللہ کے استاذ اور حافظ ابن الصلاح رحمہ اللہ کے شاگرد ہے، اور پھر اس کی فی الجملہ تائید بھی فرمائی ہے، ملاحظہ فرما میں: الزواجر عن اقتراف الكبائر، الكبيرة الثامنة والستون نسيان القرآن، ج1، ص 199.
(۱۲) نیل الاوطار، كتاب اللباس، باب كنس المساجد وتطييبها وصيانتها من الروائح الكريهة، ج 2، ص 178.
(۱۳) چنانچه مصری دار الافتار کے فتاوی میں ہے:
لكن حمل بعض العلماء النسيان هنا على ترك العمل لأن الإنسان بطبيعته معرض لنسيان ما يحفظ، سواء أكان من
القرآن أم من غيره، ولأن التحذير لو كان من مجرد نسيان ما يحفظ لقال الشخص الأسلم ألا احفظ شيئا حتى لا أتعرض
للعقاب إن نسيت، وهذا فيه صرف للناس عن القرآن فتاوى دار الإفتاء المصرية، حكم نسيان القرآن، ج 8، ص 34.
( ١٤) شرح سنن أبی داود، كتاب الوتر، باب التشديد فيمن حفظ القرآن ثم نسيه، ج 7، ص 200.
(١٥) الزواجر عن اقتراف الكبائر، باب الأحداث الكبيرة الثامنة والستُونَ يَسْيَانُ الْقُرْآنِ، ج 1، ص 199.
از : مولانا عبید الرحمن
دار الافتار والارشاد، مردان

جواب دیں