اسلام ایک آفاقی دین ہے، جو ہر زمانے کے انسان کی ضروریات اور مسائل کا جامع حل پیش کرتا ہے۔ یہ دین انسان کو نہ صرف روحانی ترقی کا راستہ دکھاتا ہے؛ بلکہ مادی دنیا کے چیلنجز کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔ آج کے دور میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) ایک ایسی علمی و تکنیکی پیش رفت ہے جس نے انسانی معاشرت ، معیشت ، اور افکار پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس پس منظر میں یہ ضروری ہے کہ اسلام کی روشنی میں اس جدید ٹیکنالوجی کے فوائد، چیلنجز ، اور ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا جائے ؛ تا کہ اس میدان میں ہم ایک متوازن اور تعمیری نقطہ نظر پیش کر سکیں۔
انسانی عقل اور ٹیکنالوجی کی اسلامی اساس
اسلام علم اور ٹیکنالوجی کے حصول کی بھر پور حوصلہ افزائی کرتا ہے؛ کیونکہ یہ انسانی ترقی اور اللہ کی نعمتوں کی دریافت کا ذریعہ ہے۔ قرآن مجید میں انسان کو علم الہی کا امین قرار دیا گیا اور اس کو کائنات کے اسرار ورموز سمجھنے کی دعوت دی گئی ہے، جیسا کہ فرمایا:
وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاء كُلَّهَا (البقره: 31)
"اور اللہ نے آدم کو تمام اسماء کی تعلیم دی”
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ انسان کو علم اور تخلیقی صلاحیتوں کی دولت عطا کی گئی ہے، جو اسے دیگر مخلوقات پر فوقیت دیتی ہے۔
قُلِ انظُرُوا مَاذَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ“ (يونس: 101)
"کہہ دو کہ دیکھو آسمانوں اور زمین میں کیا کچھ ہے۔”
یہ آیت واضح طور پر تحقیق اور غور و فکر کی ترغیب دیتی ہے، جو سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی کا بنیادی اصول ہے۔
إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ (الروم: 24)
”ان چیزوں میں عقل رکھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔“
یہ آیت اس بات کی تاکید کرتی ہے کہ انسانی ترقی کا انحصار اس کی عقل کے مؤثر اور تعمیری استعمال پر ہے۔ انسانی عقل اسی استعمال سے ٹیکنا لوجی جیسے میدانوں میں ترقی ممکن ہوئی ہے اور مصنوعی ذہانت اسی عقل کی ایک شاخ ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا:
العقل رسول في الإنسان (نهج البلاغه، خطبه 184)
”عقل انسان کے اندر اللہ کا پیغام رساں ہے۔“
رسول اللہ صلی الم نے فرمایا:
الْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ ، فَحَيْثُ وَجَدَهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا (جامع ترمذی: 687)
”دانائی مومن کی گم شدہ چیز ہے، جہاں کہیں بھی وہ اسے پائے ، وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔“
کھجور کے درختوں کی بارآوری کے سلسلہ میں رسول اللہ صلی ﷺ نے فرمایا:
انْتُمْ أَعْلَمُ بِأُمُورِ دُنْيَاكُمْ (صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2363)
”تم اپنے دنیاوی معاملات کو بہتر جانتے ہو؟“
یہ احادیث دنیاوی معاملات ، جیسا کہ زراعت، تجارت ، یا ٹیکنالوجی ، میں انسانی عقل اور یا تجربے کے استعمال کی اجازت دیتی ہیں۔ جو دنیاوی ترقی اور انسانی فلاح کے لیے ضروری ہے۔ مزید یہ کہ قرآن مجید میں جنگی قوت کے حصول کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا گیا:
وَاعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ (الانفال: 60)
”اور ان کے مقابلے کے لیے جہاں تک تمہاری استطاعت ہو، قوت تیار رکھو۔“
یہ قوت ہر زمانے کی موثر ٹیکنالوجی کو شامل کرتی ہے، خواہ وہ دفاعی ہو یا معاشی ، طبی ہو یا صنعتی ۔ اسی طرح اسلامی تاریخ میں مسلمانوں نے علم و ٹیکنالوجی میں پیش قدمی کرتے ہوئے دنیا کو اہم ایجادات فراہم کیں، جسے الجبرا، طب اور فلکیات۔ اسلام کا یہ تصور نہ صرف ٹیکنالوجی کے حصول کو جائز ؛ بلکہ دینی فریضہ قرار دیتا ہے؛ تا کہ امت مسلمہ مضبوط ہو اور دنیا میں عدل، امن اور ترقی کے قیام میں اپنا کردار ادا کرے۔
مصنوعی ذہانت (AI) کا تعارف
مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence یا Al) ایک ایسا شعبہ ہے جو کمپیوٹر سائنس کے اندر کام کرتا ہے اور اس کا مقصد مشینوں کو انسانوں کی طرح ذہنی صلاحیتیں فراہم کرنا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ان کمپیوٹر سسٹمز کی تشکیل سے متعلق ہے جو انسانوں کی طرح سوچنے ، سیکھنے، فیصلے کرنے اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
AI کے اہم شعبے
مصنوعی ذہانت کا میدان بہت وسیع ہے، اور اس میں مختلف شاخیں شامل ہیں جو ہر ایک خاص کام یا صلاحیت کو بہتر بنانے پر مرکوز ہیں:
مشین لرننگ (Machine Learning)
یہ AI کا سب سے اہم اور بنیادی شعبہ ہے۔ مشین لرننگ میں سسٹم خود کار طور پر ڈیٹا سے سیکھتے ہیں اور اس سیکھنے کے عمل سے اپنی کار کردگی بہتر بناتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر کسی سسٹم کو ای میلز کی سپیم کی شناخت کرنی ہو، تو وہ پہلے سے موجود ڈیٹا سے سیکھ کر نئی ای میلز کی درست شناخت کر سکتا ہے ۔
نیچرل لینگویج پروسیسنگ (Natural Language Processing)
اس میں کمپیوٹرز کو انسانوں کی زبان کو سمجھنے، تجزیہ کرنے اور اس پر رد عمل دینے کی صلاحیت دی جاتی ہے۔ جیسے کہ گوگل ترجمہ یا اسمارٹ اسٹنٹ ( مثلاً Siri یا Alexa) جو آپ کے سوالات کا جواب دے سکتے ہیں۔
کمپیوٹر وژن (Computer Vision)
کمپیوٹر وژن کی مدد سے مشینیں تصاویر یا ویڈیوز کو سمجھ کر ان کا تجزیہ کر سکتی ہیں ۔ مثال کے طور پر ، خودکار گاڑیاں جو سڑکوں پر چلتے ہوئے رکاوٹوں کو پہچاننے کے لیے کمپیوٹر وژن کا استعمال کرتی ہیں۔
روبوٹکس (Robotics)
روبوٹکس میں روبوٹوں کی تخلیق اور کنٹرول شامل ہے جو مختلف کام انجام دے سکتے ہیں جیسے صنعتی شعبے میں کام کرنا یا انسانی معاونت فراہم کرنا۔
ڈیپ لرننگ (Deep Learning)
یہ مشین لرنگ کی ایک ذیلی شاخ ہے جو نیورل نیٹ ورکس کی مدد سے پیچیدہ مسائل کو حل کرتی ہے، جیسے کہ آواز کی پہچان یا تصویر کی شناخت۔
مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی کے اساسی مقاصد
مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) ٹیکنالوجی کے ایجاد کرنے کے پیچھے کئی اساسی مقاصد ہیں، جو انسانی زندگی کو بہتر بنانے ، مسائل کو حل کرنے ، اور مادی ترقی کو فروغ دینے کی ، کوششوں پر مبنی ہیں۔ ان مقاصد کو درج ذیل نکات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
۱- مسائل کا خود کار اور موثر حل
مصنوعی ذہانت کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسانی مسائل کو خود کار طریقے سے اور زیادہ موثر انداز میں حل کیا جاسکے۔ مثال کے طور پر: پیچیدہ ڈیٹا کا تجزیہ اور درست فیصلے ۔ ایسے کام جو انسانی مہارت سے زیادہ وقت لیتے ہیں، انھیں کم وقت میں مکمل کرنا۔
۲- انسانی صلاحیتوں کا متبادل
مصنوعی ذہانت کو ان کاموں کے لیے تیار کیا گیا ہے جو عام طور پر انسانی صلاحیتوں کا تقاضا کرتے ہیں ، جیسے کہ چیزوں کو سمجھنا اور پہچاننا ( تصویری شناخت ) ۔ قدرتی زبان کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا (Natural Language Processing)
۳- پیداواری صلاحیت میں اضافہ
صنعتی اور کاروباری دنیا میں خود کار نظام کے ذریعے پیداوار اور کارکردگی کو بہتر بنانا انسانی مزدوری پر انحصار کم کر کے زیادہ موثر اور کم لاگت والے نظام تیار کرنا۔
۴- معاشرتی سہولتوں میں بہتری
مصنوعی ذہانت کو صحت تعلیم اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں استعمال کر کے انسانی زندگی کو آسان بنانا ، جیسے: بیماریوں کی تشخیص اور علاج میں مدد۔ ذاتی نوعیت کے لرننگ سسٹمز کے ذریعے تعلیمی معیار میں بہتری۔ ٹریفک مینجمنٹ اور نقل و حمل کے مسائل کو حل کرنا۔
۵- انسانی غلطیوں کو کم کرنا
ڈیٹا کے تجزیے میں غلطیوں کو ختم کرنا۔ کاموں کو خود کار بنا کر انسانی غلطیوں کے امکانات کم کرنا۔
۶- تحقیق اور نئی دریافتیں
مصنوعی ذہانت تحقیق اور دریافتوں میں مددفراہم کرتی ہے، جیسے : سائنسی تجربات کی تیاری اور تجزیہ۔ پیچیدہ ریاضیاتی اور طبعی مسائل کا حل۔
۷- محفوظ ماحول کی فراہمی
خطر ناک ماحول ( جیسے کان کنی یا ایٹمی پلانٹس ) میں کام کرنے کے لیے روبوٹس کا استعمال۔ انسانی جانوں کے نقصان کو کم کرنے کے لیے جنگی حکمت عملی میں مصنوعی ذہانت کا استعمال
۸- معاشی ترقی
کاروباری شعبے میں نئی مصنوعات اور خدمات کے ذریعے معیشت کو فروغ دینا۔ مارکیٹ کی پیشگوئی کے ذریعے سرمایہ کاری اور منصوبہ بندی کو موثر بنانا۔
۹- انسانی زندگی کی سہولت میں اضافہ
روزمرہ کے کاموں میں سہولت فراہم کرنا ( جیسے اسمارٹ ہومز اور وائس اسسٹنٹ ) ۔ تفریحی صنعت میں انٹرایکٹیو تجربات کی تخلیق۔
۱۰- انسانی دماغ کے اسرار کو سمجھنا
مصنوعی ذہانت کے ذریعے انسانی ذہن کی کام کرنے کی صلاحیتوں کا مطالعہ ۔ انسانی شعور اور فیصلہ سازی کے عمل کو بہتر طور پر سمجھنا۔ خلاصہ یہ کہ مصنوعی ذہانت کا بنیادی مقصد انسانی زندگی کو آسان ، موثر اور ترقی یافتہ بنانا ہے؛ تاہم ان مقاصد کو حاصل کرنے کے دوران اخلاقی اور سماجی اقدار کو مد نظر رکھنا ضروری ہے تاکہ یہ ٹیکنالوجی انسانیت کے فائدے کے لیے استعمال ہو، نہ کہ نقصان کے لیے۔
مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی کی کارکردگی
مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے ذریعے حالیہ دور میں ایسے عظیم الشان کارنامے انجام دیے گئے ہیں جو انسانی صلاحیتوں کی محدودیت کے باعث ممکن نہیں تھے یا جنہیں انجام دینے میں غیر معمولی وقت اور وسائل درکار ہوتے ۔ یہ کارنامے انسانی زندگی کے مختلف شعبوں میں انقلاب برپا کر رہے ہیں۔ درج ذیل چند مثالیں موجودہ دور کے نمایاں کاموں کی ہیں :
۱- طب کے شعبے میں انقلابی کامیابیاں
بیماریوں کی جلد تشخیص : مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام ، جیسے IBM Watson ، پیچیدہ بیماریوں ( کینسر ، دل کی بیماری، اور نایاب جینیاتی مسائل) کی تشخیص میں مدد دے رہا ہے، جو انسانی ڈاکٹروں کے لیے مشکل اور وقت طلب ہے۔
دوائیوں کی تخلیق : ڈیپ مائنڈ کا Alpha Fold پروجیکٹ نے پروٹین کے ڈھانچے کی پیش گوئی کی ، جونئی دوائیوں کی تیاری میں انقلابی پیش رفت ہے۔
سرجری میں روبوٹک مدد: روبوٹک سرجری کے نظام ، جیسے da Vinci، انتہائی باریک اور پیچیدہ آپریشنز میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔
۲- خلائی تحقیق اور دریافتیں مریخ پر تحقیق
NASA کا مصنوعی ذہانت سے چلنے والا روبوٹ Perseverance Rover مریخ کی سطح پر تحقیقات کر رہا ہے، جو زمین سے لاکھوں میل دور خود کار طور پر کام کرتا ہے۔
سیاروں کی شناخت: AI الگورتھمز نے نئے سیاروں اور ستاروں کی شناخت کی ، جو انسانی مشاہد. سے ممکن نہیں تھے۔
۳- ماحولیاتی تحفظ اور پیش گوئی
موسمیاتی تبدیلی کی پیش گوئی : AI سسٹمز انتہائی پیچیدہ ڈیٹا کا تجزیہ کر کے قدرتی آفات (زلزلے، طوفان، سیلاب ) کی پیشگی اطلاع دے رہے ہیں ، جو لاکھوں جانیں بچانے میں مددگار ہیں ۔
جنگلات کی حفاظت: AI کا استعمال جنگلات میں لگنے والی آگ کا جلد پتہ لگانے اور اس پر قابو پانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
۴- ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کے میدان میں انقلاب
چہرے کی شناخت: مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئرز نے چہرے کی شناخت کے میدان میں حیران کن کامیابیاں حاصل کیں، جو سیکورٹی اور جرائم کی روک تھام میں انتہائی مددگار ہیں۔
گوگل ٹرانسلیٹ اور چیٹ بوٹس: قدرتی زبان کی پروسیسنگ (NLP) نے دنیا بھر کے مختلف زبانوں کے درمیان رابطے کو آسان بنا دیا ہے۔
۵- معاشی ترقی اور کاروبار میں انقلاب
مارکیٹ کی پیش گوئی: A سسٹمز، جیسے کہ ہائی فریکوئنسی ٹریڈنگ نے اسٹاک مارکیٹس میں انتہائی درست پیش گوئیوں اور سرمایہ کاری کے فیصلوں کو ممکن بنایا ہے۔
ای کامرس: AI پر مبنی پلیٹ فارمز جیسے Amazon اور Alibaba نے خریداری کو ذاتی نوعیت کا بنادیا ہے، جو گاہک کی دلچسپیوں کے مطابق مصنوعات تجویز کرتے ہیں۔
۶- تعلیم کے شعبے میں ترقی
ذاتی نوعیت کی تعلیم : Al سسٹمز ، جیسے Coursera اور Khan Academy ،طلباء کو ان کی ضرورت اور دلچسپی کے مطابق تعلیمی مواد فراہم کرتے ہیں ۔
معذور افراد کے لیے تعلیم : سننے، دیکھنے ، یا بولنے میں مشکلات کا سامنا کرنے والے افراد کے لیے AI نے خصوصی سسٹمز تیار کیے ہیں۔
۷- فن اور تخلیق کا انقلاب
تصویری اور صوتی تخلیق : AI سافٹ ویئر ز جیسے DALL-E اور Deep Dream نے ایسی تخلیقی تصاویر اور فن پارے بنائے ہیں جو انسانی سوچ سے بالاتر ہیں۔
۸- کرونا وائرس وبا کے دوران خدمات
ویکسین کی تیاری: 19-COVID ویکسین کی تیز رفتار تیاری میں مصنوعی ذہانت نے کلیدی کردار ادا کیا، جس نے جینیاتی ڈیٹا کا تجزیہ کر کے ویکسین کے ڈیزائن کو ممکن بنایا۔
وبا کے پھیلاو کا کا تجزیہ: AI نے وبا کے پھیلاو کی پیش گوئی اور روک تھام میں حکومتوں کو مددفراہم کی ۔
۹- قانونی نظام میں سہولت
معاملات کی جانچ پڑتال: AI نے لاکھوں قانونی دستاویزات کا تجزیہ کر کے وکلا کو مدد فراہم کی ، جو انسانوں کے لیے وقت طلب اور مشکل کام تھا۔ فیصلہ سازی میں مدد: عدالتی نظام میں AI کے کے لیے وقت اور کام تھا۔ سازی میں مدد میں A کے ذریعے مقدمات کے تیز رفتار فیصلے کیے جارہے ہیں۔
۱۰- سماجی مسائل کا حل
غربت کی شناخت: AI سسٹمز نے ان علاقوں کو شناخت کیا جہاں غربت زیادہ ہے؛ تا کہ امدادی پروگرام موثر طریقے سے چلائے جاسکیں۔
جرائم کی پیش گوئی : AI نے جرائم کے رجحانات کی شناخت کر کے ان کے سد باب میں مددفراہم مدد فراہم کی ۔
مصنوعی ذہانت کے ذریعے انجام دیے گئے یہ کارنامے واضح کرتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف انسانی صلاحیتوں میں اضافہ کرتی ہے؛ بلکہ ان مسائل کو بھی حل کرنے میں مددگار ہے جو انسانی عقل اور وقت کی محدودیت کی وجہ سے ممکن نہ تھے۔ مستقبل میں مصنوعی ذہانت مزید ترقی کرے گی اور اس کے اثرات مختلف شعبوں میں گہرے ہوں گے۔ خود کار گاڑیاں ، انسانوں کی مدد کے لیے روبوٹ اور ذہانت سے چلنے والے صحت و دفاع کے دائرہ میں دیگر آلات و غیرہ۔
مصنوعی ذہانت اور انسانی تشخص
مصنوعی ذہانت کی ہمہ جہت خدمات نے ایک بڑا سوال یہ پیدا کیا ہے کہ کیا مشینیں انسانی تخلیق اور عقل کا متبادل بن سکتی ہیں؟
قرآن مجید میں انسان کی تخلیق کے حوالے سے اللہ تعالی فرماتے ہیں:
وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُوحِي “ (الحجر: 29)
”میں نے انسان میں اپنی روح پھونکی۔“
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ انسان کی اصل حیثیت اس کی روحانی اور اخلاقی بلندی میں ہے، نہ کہ صرف مادی ذہانت میں ۔ مصنوعی ذہانت، چاہے جتنی بھی ترقی کرلے، انسانی شعور، جذبات اور اخلاقیات کا متبادل نہیں بن سکتی ۔
مصنوعی ذہانت اور اندیشہ فساد
مصنوعی ذہانت کو اس کے ممکنہ غلط استعمال کے تناظر میں مطلق فساد کا ذریعہ سمجھنا حقیقت کے بجائے ایک موہوم خدشہ ہے ۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا:
لا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى“ (الانعام: 164)
”کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔“
یہ اصول واضح کرتا ہے کہ آلات یا ٹیکنالوجی کو ان کے استعمال کے نتائج کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ تاریخی طور پر، ٹیکنالوجی کے ہر دور میں یہی معاملہ رہا ہے۔ ہوائی جہاز نے دنیا کو قریب کیا، لیکن جنگوں میں بمباری کا ذریعہ بھی بنے۔ گاڑیوں نے سفر آسان بنایا؛ مگر حادثات کا سبب بھی بنیں ۔ اصل مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں؛ بلکہ اس کا غلط استعمال ہے۔ جیسا کہ امام ابن تیمیہ نے فرمایا: چیزوں کی اچھائی یا برائی ان کے استعمال پر موقوف ہے۔ لہذا، فساد کا ذمہ دار ٹیکنالوجی نہیں؛ بلکہ اس کا استعمال کرنے والا انسان ہے۔ اس لیے ضرورت اخلاقی تربیت اور درست رہنمائی کی ہے، نہ کہ ترقی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی۔
مصنوعی ذہانت علم سائنس کے منفی تجربہ کے تناظر میں
علم سائنس کے منفی استعمال کا تجربہ بلاشبہ اک نا قابل انکار حقیقت ہے کہ جو علم معرفت الہی کا سر چشمہ بن سکتا تھا وہی انکار الہی کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا گیا لیکن تاریخ کی اس صداقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سائنس کا خدا کے انکار کے لیے استعمال اس وقت شروع ہوا جب مغربی سائنس دانوں کی اکثریت عیسائیت کے جبر اور پاپائیت کے غیر منطقی نظریات سے متنفر ہو چکی تھی۔ ان کے زخم خوردہ تجربات نے سائنس کو مذہب کے مقابل کھڑا کر دیا۔
اگر سائنسی ترقی مسلمانوں کی قیادت میں ہوئی ہوتی ، تو یہ فطرت کی تفہیم کو خدا کی معرفت کا ذریعہ بناتی، نہ کہ الحاد کا۔ یہی اصول مصنوعی ذہانت پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر مسلمان اس میدان میں قیادت نہیں کریں گے اور اس ٹیکنالوجی کو اخلاقی اور روحانی بنیادوں پر رہنمائی فراہم نہیں کریں گے، تو یہ بھی دیگر ٹیکنالوجیز کی طرح غلط سمت اختیار کر سکتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مصنوعی ذہانت کو رد کرنے کے بجائے اس کی نکیل مسلمانوں کے ہاتھ میں ہو؛ تاکہ اسے انسانیت کی فلاح ، عدل اور خدا کی معرفت کے لیے استعمال کیا جاسکے۔ اسلام کا عالمگیر اور متوازن اخلاقی نظام ہی اسے ایک مثبت سمت فراہم کر سکتا ہے۔
تمدنی سفر کی ایک منزل
مصنوعی ذہانت کی ایجاد، اپنی ذات میں کوئی فتنہ ہے، نہ اسلام یا انسان کے خلاف کوئی منصوبہ بند سازشی عمل۔ یہ در اصل ہزاروں سال پر پھیلے، انسان کے علی صنعتی ترقیاتی سفر کا حاصل ہے۔ جہاں انسان، تمدن کے مختلف ادوار سے گزرتے ہوئے اور تحقیق واکتشاف کے ہفت خواں طے کرتے ہوئے آن پہونچا ہے۔
مجری دور (Stone Age)
انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا کے مطابق ، دنیا کی تاریخ کا ابتدائی تمدنی عہد ، حجری دور Stone) (Age) کہلاتا ہے ۔ جو 5.2 ملین سال قبل سے 3000 قبل مسیح تک پھیلا ہوا ہے۔ جب انسان نے پتھر کے اوزار بنائے اور شکار کے ذریعہ اپنی خوراک کا انتظام کرتا تھا۔
زرعی دور (Agricultural Age)
دوسرا دور ، زرعی دور (Agricultural Age) کہلاتا ہے۔ جس کی مدت تقریباً 10000 قبل مسیح سے 18 ویں صدی تک وسیع ہے۔ یہ دور زراعت کی دریافت اور زمین کی کا شتکاری سے شروع ہوا۔ انسان نے خانہ بدوشی چھوڑ کر مستقل بستیاں قائم کیں، اور خوراک کی پیداوار میں اضافہ ہوا۔ اس دور میں سماجی نظام زرعی زمینوں اور فصلوں پر منحصر تھا۔
اس دور کے وسط میں اسلام کا ظہور ہوا اور خلافت راشدہ و عباسیہ کے ادوار میں مسلمانوں نے علمی و سماجی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا اور سائنس و ٹیکنالوجی کے مبادیات مرتب کیے، جن کی روشنی میں تہذیب و تمدن کا قافلہ آگے بڑھا۔
صنعتی دور (Industrial Age)
تیسرا دور صنعتی دور (Industrial Age) کہلاتا ہے۔ جس کی مدت 18 ویں صدی سے 20 ویں صدی کے وسط تک ہے صنعتی انقلاب کے ساتھ مشینوں کا استعمال عام ہوا۔ پیداوار کی رفتار میں اضافہ ہوا، کارخانوں کا قیام عمل میں آیا، اور سماجی ڈھانچہ زراعت سے صنعت کی طرف منتقل ہو گیا۔ یہ دور یورپ کی بالا دستی کا سبب بنا؛ کیونکہ وہ سائنسی اور صنعتی میدان میں آگے تھے۔ مسلمان اس دور میں قومی فخر اور سیاسی غرور میں مبتلا ہونے کی وجہ سے شدید فکری و ذہنی پسماندگی کا شکار تھے۔ جس کی وجہ سے وہ علم اور ٹیکنالوجی میں قیادت کھو بیٹے اور نوآبادیاتی طاقتوں کے زیر تسلط آگئے۔
ڈیجیٹل دور (Digital Age)
چوتھا دور ، ڈیجیٹل دور (Digital Age) کہلاتا ہے جس کی مدت 20 ویں صدی کے آخر سے 21 ویں صدی کے اوائل تک ہے، یہ دور کمپیوٹر، انٹرنیٹ ، اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے عروج کا ہے۔ معلومات تک رسائی آسان ہوئی اور دنیا ایک گلوبل ولیج میں تبدیل ہو گئی ۔ اس دور میں تعلیم ، تجارت اور رابطے کے میدان میں انقلابی تبدیلیاں آئیں۔
اس دور میں مسلمان دنیا بھر میں ڈیجیٹل انقلاب کے میدان میں پیچھے رہے، اگر چہ کچھ ممالک جیسے ترکی ، ملائشیا، اور متحدہ عرب امارات نے کوششیں کیں ، لیکن مجموعی طور پر قیادت حاصل نہ کر سکے۔
مصنوعی ذہانت کا دور (Al Age)
موجودہ دور، مصنوعی ذہانت کا دور (Al Age) ہے جس کا آغاز 21 ویں صدی کے اوائل سے ہوا۔ مصنوعی ذہانت مشین لرننگ ، اور خود کار نظام اس دور کی بنیاد ہیں۔ روبوٹکس ، ڈیٹا انیلی ٹکس ، اور
ذہین سسٹمز نے صنعت صحت اور تعلیم میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ یہ دور، فیصلہ سازی میں مشینوں کے کردار کو بڑھا رہا ہے۔ یہ دور کسی قوم کی مذہب دشمن پلاننگ کا نتیجہ نہیں؛ بلکہ قدرت کی طرف سے انسان کو عطا کی گئی علمی و اختراعی صلاحیت (وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا) کا عملی ظہور ہے۔ کرہ زمین پر آباد ہونے کے بعد ، انسان نے زندگی کو آسان بنانے کی خاطر تہذیب و تمدن کی تعمیر کا جو آغاز کیا تھا، مصنوعی ذہانت، صدیوں کے تہذیبی ترقی کے بعد اسی بابرکت آغاز کا ، کارآمد اور نتیجہ خیز انجام ہے۔
مسلمان زرعی دور کے آخری حصے اور صنعتی دور کے آغاز میں دنیا کے امام تھے، خاص طور پر دنیا 8 ویں سے 15 ویں صدی ہجری تک، جب اسلامی تہذیب نے سائنسی ، فکری اور سماجی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ مسلمانوں کی پسماندگی صنعتی انقلاب کے دوران ہوئی، جب وہ شمشیر و سناں علمی تجربہ گاہوں اور رصد گاہوں سے کنارہ کش ہو کر طاؤس و رباب ، آرٹ اور فنونِ لطیفہ میں منہمک ہو گئے اور علم وتحقیق میں پیچھے رہ گئے اور مغرب نے سائنس اور صنعتی میدان میں قیادت حاصل کر لی۔ آج مصنوعی ذہانت کے دور میں، اگر مسلمان علم اور ٹیکنالوجی کو اپنی ترجیح بنائیں تو وہ دوبارہ دنیا کے
امام بن سکتے ہیں۔
اصولی ہدایت
مصنوعی ذہانت کی ایجاد اور زندگی کے تمام شعبوں میں اس کے عام استعمال کے بعد ایجاد و اختراع کا مسئلہ زیر بحث نہیں ہے؛ بلکہ موضوع گفتگو اس کا استعمال ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سلسلہ میں نہایت سادہ، عام فہم اور واضح معیار مقرر فرمایا :
” إنما الاعمال بالنيات” (صحيح بخاری)
”اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے۔“
” إن الله يحب إذا عمل احدكم عملاً ان يتقنه (صحیح مسلم، حدیث : 1955)
”اللہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ جب تم کوئی کام کرو، تو اسے بہترین طریقے سے انجام دو ۔“
ان احادیث کی روشنی میں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اعمال اور استعمال کی درستگی کے دو معیار
ہیں: نبیت کی پاکیزگی ۔ حسن استعمال ۔
اسلامی قانون میں کسی بھی نئی ایجاد یا ٹیکنالوجی کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت سد الذرائع (برائی کے راستوں کو بند کرنا) اور جلب المصالح ( فائدے کے حصول ) کے اصولوں کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔
اگر مصنوعی ذہانت کا استعمال ایسے مقاصد کے لیے کیا جائے جو انسانیت کو نقصان پہنچائیں ، جیسے کہ انسانی حقوق ( جان، مال صحت ) کی پامالی کرنا یا انسانی رازداری کی خلاف ورزی کرنا ، تو اس طرح کا استعمال نا جائز ہوگا۔
اگر اس ٹیکنالوجی کو انسانیت کی خدمت، صحت اور تعلیم کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ جائز اور باعث اجر ہوگا۔
امام غزائی (450-505ھ) اپنی کتاب ” احیاء علوم الدین میں فرماتے ہیں : ہر وہ علم جو انسان کو خدا کی معرفت اور مخلوق کی خدمت کے قریب کرے، وہ علم محمود ہے ۔“ جلد 1 صفحہ 10 ، دار الکتب العربيه )
شیخ الاسلام ابن تیمیہ (0661-728ھ) نے فرمایا:
مصلحت یہ ہے کہ تمام علم اور فن کو شرعی مقاصد کے تابع رکھا جائے؛ تا کہ یہ انسان کی فلاح کا ذریعہ بنیں ۔ ( مجموع الفتاوی جلد 8 ، صفحہ 298)
پیغام عمل
مصنوعی ذہانت ، دور حاضر کی ایک غیر معمولی قوت ہے، جو زندگی کے ہر میدان میں موثر رول ادا کر رہی ہے اور اسے دن بہ دن مزید فعال کیا جا رہا ہے۔ جسے اختیار کرنا امت مسلمہ کی آئینی ذمہ داری ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالی نے امت مسلمہ کو حد امکان تک قوت اور سامان حرب کی تیاری کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
وَاعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رَبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ ( الانفال: 60)
اور ان کے مقابلے کے لیے جہاں تک تمہاری استطاعت ہو، قوت اور پلے ہوئے گھوڑے تیار رکھو؛ تا کہ اس کے ذریعے اللہ کے دشمن اور“ "اپنے دشمن پر ہیبت طاری کر سکو ۔
یہ حکم کسی خاص زمانے یا مخصوص آلات تک محدود نہیں ؛ بلکہ ہر دور کی موثر قوت کو شامل ہے۔
آج کے زمانے میں مصنوعی ذہانت ایک ایسی ہی قوت ہے، جو نہ صرف دفاعی صلاحیت کو بڑھا سکتی ہے؛ بلکہ انسانی ترقی علم اور امن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔
رسول اللہ صلی ﷺ کا فرمان ہے:
الَّا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمى“ (صحيح مسلم: 1917)
یقین جانو ! حقیقی طاقت نشانہ بازی ہے۔
الْمُؤْمِنُ القَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إلى اللهِ مِنَ المُؤْمِنِ الضَّعِيفِ، وفي كُلٍّ خَيْرٌ. احْرِصْ علَى ما يَنْفَعُكَ، وَاسْتَعِنْ باللَّهِ وَلَا تَعْجِزْ، وإنْ أَصَابَكَ شَيءٌ، فلا تَقُلْ: لو أَنِّي فَعَلْتُ كانَ كَذَا وَكَذَا، وَلَكِنْ قُلْ: قَدَرُ اللهِ وَما شَاءَ فَعَلَ؛ فإنَّ لو تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ.(صحیح مسلم، حدیث نمبر : 2664)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
طاقتور مومن کمزور مومن سے بہتر اور اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے، اور ہر ایک میں خیر ہے۔ جو چیز تمہیں نفع دے، اس کے لیے بھر پور کوشش کرو، اور اللہ سے مدد مانگو، اور کمزوری مت دکھاؤ اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچے تو یہ نہ ہو کہو اگر مں یوں کرتا تو ایسا ہوجاتا بلکہ یہ کہو کہ یہ اللہ کی تقدیر ہے اور جو اللہ نے چاہا وہی ہوا؛ کیونکہ اگر“ کا لفظ شیطان کے عمل کا دروازہ کھول دیتا ہے۔
طاقتور مومن کمزور مومن سے بہتر اور اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے نہ صرف ایک اخلاقی رہنمائی ہے؛ بلکہ یہ ہمارے عہد کے لیے ایک عملی منصوبہ بھی فراہم کرتی ہے۔ اس حدیث میں قوت کو اپنانے کی ترغیب دی گئی ہے، جسمانی، ذہنی اور فکری قوت اور ان تمام وسائل ، ڈیوائس ، اوزاروں اور ہتھیاروں کو بروئے کار لانے کی ترغیب دی گئی ہے جو انسانیت کے لیے نفع بخش ہوں۔
ہمیں بتایا گیا کہ ماضی میں صنعتی اور ڈیجیٹل دور کی پسماندگی پر حسرتوں اور اگر مگر میں وقت ضائع کرنے کے بجائے مستقبل پر توجہ مرکوز کریں اور جو کچھ بھی ہمارے لیے نفع بخش ہو، اسے اپنانے کی بھر پور کوشش کریں۔
دنیاڈیجیٹل دور سے آگے بڑھ کر مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ مسلمانوں پر قرآن وحدیث کی رو سے یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ مثبت اور تعمیری مقاصد کو مد نظر رکھتے ہوئے اس میدان میں آگے بڑھیں اور شہ زور اور بے لگام مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کی رسی اپنے ہاتھ میں لیں۔ یہ وہ میدان ہے؛ بلکہ امت کی علمی، اقتصادی اور سیاسی برتری کو بھی بحال کر سکتا ہے۔
حقیقی مومن وہ ہے جو اپنے موجودہ وسائل کو استعمال کرتے ہوئے آگے بڑھنے کا عزم رکھے اور ہر رکاوٹ کو اللہ کی تقدیر مانتے ہوئے جدو جہد جاری رکھے۔ ماضی کی یافت پر فخر اور کھوئے ہوئے مواقع کا ماتم کرنے کے بجائے ، ہمیں پوری بصیرت اور ژرف نگاہی کے ساتھ حال کے امکانات کو استعمال کرنا ہوگا ؛ اس لیے کہ خدا کے مقرر کردہ فطری قانون کے مطابق کل کی کامیابی آج کی جدو جہد پر موقوف ہے اور مستقبل ان ہی کا تابناک ہوتا ہے جو اپنے حال کو بھر پور قوت کے ساتھ سنوارنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
گرمِ فغانِ جرس اٹھ کہ گیا قافلہ
وائے وہ رہرو کہ ہے منتظرِ راحلہ
مولانا محمد راشد وحید قاسمی
ناظم مدرسہ فلاح السلمین ، براہ موکلاں، سیتا پور

جواب دیں