استاذ کا مقام

سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: انما بعثت معلما ۔ ترجمہ: مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے (ابن ماجہ )
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَبْعَثْنِي مُعَنِّتًا وَلَا مُتَعَنِّتًا وَلَكِنْ بَعَثَنِي معلما ميسرًا. (صحيح مسلم كتاب الطلاق)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے مجھے تکلیف و مشقت میں ڈالنے والا اور پریشان کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا، بلکہ تعلیم دینے والا اور آسانیاں پیدا کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔

مذکورہ بالا دونوں احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود فرمارہے ہیں کہ اللہ تعالی نے مجھے منصب نبوت کے ساتھ ساتھ منصب معلم بھی عطا فرمایا ہے۔ اس سے منصب معلم کی عظمت کا پتہ چلتا ہے کہ معلم ہونا کتنا بلند منصب ہے جو خالق کا ئنات نے اپنے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پہ سجایا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صرف مسلمانوں کے لیے معلم نہیں ہیں؛ بلکہ آپ معلم انسانیت ہیں۔ جس طرح آپ ﷺ کی نبوت صرف مسلمانوں کے لیے نہیں؛ بلکہ تمام انسانیت کے لیے ہے آپ کے حکیمانہ ارشادات و فرامین اور تعلیم ساری انسانیت کے لیے ہے گویا آپ معلم انسانیت ہیں آپ کے معلم بنائے جانے کی وجہ سے اس منصب کو اللہ نے چار چاند لگا دیئے۔ تعلیم و تعلیم کی اہمیت اور معلم کا مقام و مرتبہ ابتدائی وحی سے ہی معلوم ہو جاتا ہے جس میں اللہ تعالی نے علم کی قدر و منزلت کو اجاگر کرنے کے لیے لفظ "اقراء” پڑھیے سے آغاز کیا تعلیم و تدریس بذات خود معزز منصب ہے جو اس کے ساتھ مسلک ہو جائے گا وہ بھی معز ز کہلائے گا۔ استاد معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اگر استاد کو معاشرے سے نکال دیا جائے تو جہالت کو جو عروج ملے گا اسے معاشرے کی تباہی اور زوال سے کوئی نہیں روک سکتا۔

استاد چاہے ایک حرف کا ہی کیوں نہ ہو استاد استاد ہوتا ہے، استاد وہ قابل احترام ہستی ہے جس نے آپ کو پستی سے اٹھا کر بام عروج تک پہنچایا۔ جو قومیں استاد کا ادب و احترام کرنا چھوڑ دیتی ہے، وہ کبھی ترقی یافتہ نہیں بن سکتی ۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی بندہ کو قران مجید کی ایک آیت سکھائی ، وہ اس کا آتا ہے تو اس بندے کے لیے مناسب نہیں کہ یہ اس کو رسوا کرے اور نہ اس پر کسی کو ترجیح دے۔ (المعجم الكبير للطبرانی)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما آپ کے چچازاد ہیں ان کے بارے آتا ہے کہ وہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سواری کی رکاب تھام لیتے تھے اور کہتے تھے کہ ہمیں اہل علم کے ساتھ اسی سلوک کا حکم دیا گیا ہے (البدایہ والنہایہ )۔
دین تو سرا سرادب کا نام ہے، جہاں دین اسلام، والدین اور بڑوں کے ادب و احترام کا حکم دیتا ہے اور تلقین کرتا ہے؛ وہاں استاد کے مقام و مرتبہ کا پاس رکھنا انتہائی ضروری قرار دیتا ہے۔ ورنہ اللہ تعالٰی اس انسان سے علم کا نور چھین لیتے ہیں ؛ بلکہ اس کو کسی ایسی چیز میں مبتلا کر دیتے ہیں جس سے آگے لوگوں کو اس کے علم سے فائدہ نہیں پہنچتا۔ حضرت سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کے پاس زانوئے تلمذ تہہ کرتے تھے، آپ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت ابن عباس مجھے حدیثیں سناتے تھے اگر اجازت دیتے کہ اٹھ کر پیشانی چوم لوں تو ضرور چوم لیتا۔ (صحابہ
اور شوق علم )۔

حضرت ابن عباسؓ کی نگاہ میں استاد کا مقام

حضرت ابن عباسؓ ، حضرت ابی ابن کعب کے پاس قرآن کریم سیکھنے جایا کرتے تھے؛ چنانچہ آپ ان کے دروازے پر کھڑے ہو جاتے ، مگر دستک نہ دیتے تھے حضرت ابی ابن کعب کو یہ بات بڑی گراں معلوم ہوئی کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد میرے دروازے پر اس طرح تکلیف اٹھائیں تو حضرت ابی ابن کعب نے حضرت ابن عباس سے فرمایا کہ آپ نے دروازہ کیوں نہ کھٹکھٹایا؟ حضرت ابن عباس نے جواب دیا کہ عالم شخص اپنی قوم میں ایسا ہوتا ہے، جیسے نبی اپنی امت میں اور نبی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے "وَلَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوا حَتَّى تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ( سورة الحجرات ) –
اگر یہ لوگ ذرا صبر سے کام لیتے یہاں تک کہ آپ خود ان کے پاس تشریف لے آتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا اللہ تعالی بڑی مغفرت کرنے والا ہے نہایت مہربان ہے۔ ( علمائے سلف کا شوق علم )

یہ بات مسلم ہے کہ جس نے اساتذہ کا ادب و احترام کیا ہے اللہ تعالی نے اسے خوب نوازا ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے علمی مقام سے کون ناواقف ہے آپ کو اللہ تعالی نے تفسیر قرآن سے حظ وافر عطا فرمایا تھا، اس لیے حضرت عمر کو آپ پر سب سے زیادہ اعتماد تھا بڑے بڑے اصحاب رسول کی موجودگی میں بھی آپ مرجع خلائق تھے، آپ کا درس سب سے یکتا اور منفرد ہوتا۔

حضرت علیؓ کا قول

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ استاد کی تعظیم کے متعلق فرمایا کرتے تھے: انا عبد من علمني حرفًا وَاحِدًا إِن شَاءَ بَاع، وإن شاء اعتق، وإن شاء استرق
ترجمہ: میں اس شخص کا غلام ہوں جس نے مجھے ایک حرف پڑھایا! اگر وہ چاہے تو مجھے بیچ دے اگر چاہے تو آزاد کر دے اور اگر چاہے تو غلام بنالے ( با ادب با نصیب )
ہمارے اسلاف کا اپنے اساتذہ کرام کا ادب مثالی اور غیر معمولی تھا، اساتذہ کے ادب کا عالم یہ تھا کہ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ ادب کی وجہ سے اپنے استاد کا نام نہیں لیتے ؛ بلکہ ان کا ذکر ان کی کنیت کے ساتھ کرتے تھے ۔ اسی طرح امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا آپ کے دل میں کوئی خواہش ہے؟ فرمایا: میرا جی چاہتا ہے کہ میرے استاد علی بن مدینی ہوتے اور میں جاکر ان کی صحبت اختیار کرتا ۔ امام ربیع رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ مجھے اپنے استاد امام شافعی کے سامنے کبھی پانی پینے کی جرات نہ ہوئی۔ اور امام شافعی اپنے استاد کے ادب کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ میں ادب کی وجہ سے ورق گردانی آہستہ کرتا تھا کہ میرے استاد کو اس کی آواز سے کوفت نہ ہو ۔ امام احمد بن حنبل کے بارے آتا ہے کہ ایک مرتبہ وہ  کسی وجہ سے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے گفتگو کے دوران ان کے استاد ابراہیم بن طہمان کا ذکر آیا ان کا نام سنتے ہی امام صاحب فورا سیدھے ہو کر
بیٹھ گئے اور فرمایا: یہ نازیبا بات ہوگی کہ بڑوں کا نام لیا جائے اور ہم ٹیک لگا کر بیٹھے رہیں۔ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اپنے استاد کے متعلق فرماتے ہیں میں اپنے استاد حضرت حماد رحمۃ اللہ علیہ کے لیے اپنے والدین سے پہلے دعائے رحمت کرتا ہوں، امام یحیی بن سعید قطان کے بارے میں احیائے علوم الدین میں لکھا ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میرا 40 سال سے یہ معمول ہے کہ ہر نماز کے بعد امام شافعی کے لیے دعا کرتا ہوں، اس کی بدولت اللہ تعالی نے مجھ پر علم اور فقہ کے دروازے کھولے ہیں ، اساتذہ کی دعا اور ان کے لیے دعا کرنا بلندی درجات علم کا باعث ہے۔

جتنے بڑے آئمہ فقہاء محدثین اور علماء و مشائخ گزرے ہیں یہ سب اپنے اساتذہ کرام کا ادب و احترام بجالانے کی بدولت اس مقام تک پہنچے۔ امام اعظم ابو حنیفہؒ کے بارے آتا ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی بھی اپنے استاد محترم کے گھر کی طرف پاؤں نہیں پھیلایا ، اگر چہ میرے اور ان کے گھر کے درمیان کئی گلیوں کا فاصلہ ہے۔ ( تذکرہ سلاطین علم )

اساتذہ کے حقوق

اساتذہ کرام کے ادب و احترام کے متعدد حقوق ہیں، اس پر مستقل کتابیں موجود ہیں، ایک کتاب میں اساتذہ کے ۸۱ حقوق درج کیے گئے۔ ان سب کا خلاصہ یہی ہے کہ استاد کا ہر اعتبار سے اور ہر وقت ادب ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے ، ان کے آگے نہ چلے ، ان سے بلند آواز میں گفتگو سے اجتناب کریں، ان کی گفتگو انتہائی توجہ اور انہماک سے سنیں ۔ ان کے بارے کبھی بدگمان نہ ہوں ، ان کی خدمت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے اور کبھی استاد کی شان میں گستاخی ہو جائے تو فورا ان سے عاجزی کے ساتھ معافی مانگنی چاہیے ۔ استاد سے رابطہ میں رہیں۔ جس قدر ممکن ہو ان سے دعا ئیں سمیٹیں۔

استاد کے ادب کی نادر مثال

خلیفہ مامون نے اپنے دونوں صاحبزادوں کے لیے امام فراء کو ان کا اتالیق مقرر کیا، ایک دن امام فراء اپنے کسی کام کے لیے اٹھنے لگے تو دونوں شہزادے امام فراء حمۃ اللہ علیہ کی جوتی اٹھا کر پیش کرنے کے لیے دوڑے اور آپس میں الجھ گئے پھر اس پر صلح کی کہ ہر ایک، ایک جوتی لے؛ چنانچہ دونوں نے اپنے استاد کو اس طرح سے جوتے پہنائے کہ ہر ایک کے ہاتھ میں ایک ایک جوتا تھا۔ مامون کا ایک خادم خاص تھا جو ہر چیز کی اطلاع ان کو پہنچایا کرتا تھا، اس نے یہ بات بھی ان کو پہنچادی تو اس نے امام فراء کو بلایا جب امام فراء تشریف لائے تو مامون نے ان سے پوچھا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ عزت کس کی ہے؟ فرمایا کہ میں امیر المومنین سے زیادہ کسی کو عزت والا نہیں جانتا، مامون نے کہا: بلى من إذا نهض تقاتل على تقديم نعليه وليا عهد المسلمين حتى رضى كل واحد يقدم له فردا. (تاريخ بغداد )
ترجمہ: کیوں نہیں بھلا وہ شخص زیادہ عزت والا ہے کہ جب اٹھتا ہے تو اس کے لیے مسلمانوں کے دو ولی عہد جوتے پیش کرنے کے لیے لڑتے ہیں حتی کہ ہر ایک اس بات پر راضی ہو جاتا ہے کہ ایک ایک جوتا پیش کرے۔

خلہفہ مامون چونکہ ہارون رشید جیسے علم کے قدردان کے صاحبزادے ہیں، اس میں ان کی تربیت کا عنصر شامل تھا جس کا ہارون رشید نے خاص اہتمام کیا تھا۔

شہزادے کا استاد کے پاؤں دھلانا

خلیفہ ہارون الرشید نے اپنے صاحبزادے کو امام اصمعی کے پاس علم حاصل کرنے کے لیے بھیجا۔ ایک مرتبہ ہارون الرشید گئے تو دیکھا کہ شہزادہ ان کو وضو کرا رہا ہے، وہ پانی ڈالتا ہے اور حضرت امام اصمعی اپنے اعضاء دھور ہے ہیں، ہارون رشید نے امام اصمعی سے کہا کہ میں نے آپ کے پاس صاحبزادے کو علم و ادب کے لیے بھیجا تھا اور آپ کیسے ادب سکھا رہے ہیں؟ آپ اسے اس طرح حکم دیتے کہ ایک ہاتھ سے پانی ڈالتا اور دوسرے ہاتھ سے آپ کے پاؤں دھوتا۔ (تعلیم المتعلم فصل في تعظيم العلم واهله)۔

شیخ الہندؒ کا اپنے استاد کی اہلیہ کا ادب

حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بیان فرمایا کہ حضرت شیخ الہند جب اس سفر پر جانے لگے جس میں آپ کو مالٹا میں قید کر دیا گیا تو ہمارے گھر تشریف لائے، اس وقت دادی صاحبہ (اہلیہ حضرت مولانا قاسم نانوتوی ) حیات تھیں، دہلیز کے پاس پردہ کے پیچھے پیڑھا ڈال دیا گیا ، اس پر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ اماں جی! مجھے اپنی جوتیاں دے دیجیے! اندر سے جوتیاں دے دی گئیں تو ان کو اپنے سر پر رکھ کر دیر تک روتے رہے اور فرمایا کہ میں اپنے استاد حضرت مولانا قاسم رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت کا حق ادا نہ کر سکا ، اس کا مجھے افسوس ہے۔ ( تحفۃ الطلباء علماء )

سلف صالحین اور اکابرین کے دور میں اساتذہ کرام کے ادب و احترام کا خصوصی لحاظ رکھا جاتا حتی کہ ان کے اہل وعیال اور ان کے ہمعصر رفقاء کا بھی ادب ضروری مانا جاتا تھا، علامہ زرنوجی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ صاحب ہدایہ نے ائمہ بخاری میں سے ایک بڑے عالم کا یہ واقعہ بیان کیا کہ ایک دن ایسا ہوا کہ یہ عالم درس میں بیٹھے ہوئے تھے اور بار بار کھڑے ہو جاتے تھے، دریافت کرنے پر فرمایا کہ میرا استاد زادہ بچوں کے ساتھ کھیل رہا ہے، جب کھیلتے ہوئے مسجد کی طرف آتا ہے تو میں اس کی تعظیم میں کھڑا ہو جاتا ہوں (تعلیم المتعلم)۔
علم صرف پڑھ لینے اور علماء کی مجلس میں بیٹھ کر چند فنون کی کتابوں پر عبور حاصل کر لینے کا نام نہیں بلکہ کمال در حقیقت ادب اور تعظیم کی بدولت ممکن ہے، اساتذہ کی خدمت کو سعادت سمجھنا چاہیے! اس میں علمی پختگی ، ترقی ، بلندی اور قبولیت پنہاں ہے۔ حضرت مرزا جان جاناں رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ اپنے استاد کی مستعمل ٹوپی جو 15 سال تک استاد کے عمامہ کے نیچے رہی، اس کو پانی میں بھگو کر اس کا پانی پی لیا۔ کچھ ایسا ہی میرے استاد حضرت علامہ علی شیر حیدری شہید کے بارے میں ہے کہ آپ اپنے استاد کے پاؤں دھلا رہے تھے، ان کا مستعمل پانی اپنے پانی پینے والے مٹکے میں ڈال دیا اور پھر اس سے پانی پیتے تھے ۔ استاد کی عظمت کا تعلق صرف دل سے نہیں : بلکہ وہ تو اعمال سے بھی جھلکتی ہے جس قدر استاد کا احترام دل میں ہوگا اسی قدر وہ اعمال میں نمایاں ہوگا۔ استاد کے بارے ذراسی بدگمانی تمام تر محنت، مشقت ، حافظہ واستطاعت کو بھسم کر دیتی ہے۔ عصر حاضر میں طلبہ کو اس بارے میں توجہ دلانے کی بہت ضرورت ہے، کالج یونیورسٹی کا ماحول تو بالکل الگ تھلگ ہے مگر ہمارے مدارس میں بھی اب اس قدر جدت اور مغربیت شامل ہو چکی ہے کہ اساتذہ کرام کی تعظیم اور احترام کا جو تصور قرون اولی میں تھا۔ اب نا پید ہوتا جا رہا ہے ؛ اس لیے ضروری ہے کہ ان کے سامنے ایسے واقعات پیش کیے جائیں جن سے ان میں علم کے ساتھ ساتھ ادب اور اصلاح بھی شامل ہو۔
اللہ جان جلالہ ہمیں علم ، اسباب علم اور اساتذہ کرام کی قدرو منزلت کی معرفت سے نوازیں! آمین

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے